کاروار3؍جولائی (ایس او نیوز) بی جے پی ضلعی صدر کے جی نائک نے کہا ہے کہ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے تعلق سے ہتک آمیز زبان استعمال کرنے والے سابق وزیر آنند اسنوٹیکر کو کھلے عام معافی مانگنی ہوگی ورنہ ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
کے جی نائک نے کاروار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنتا دل لیڈر آنند اسنوٹیکر نے اننت کمار ہیگڈے کی ہتک آمیز زبان سے مذمت کی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ سیاست میں ایک دوسرے پر تنقید عام بات ہے لیکن اس طرح نیچ زبان کا استعمال سابق زیر کوزیب نہیں دیتا ہے۔انہوں نے کہا 1990سے ہی اننت کمار ہیگڈے ہندو تنظیم میں فعال ہوگئے تھے۔جب یہاں بی جے پی کوئی سیٹ جیتنے میں مسلسل ناکام ہورہی تھی اور پارٹی کے لیڈر جیت نہیں پارہے تھے تب اپنی سرگرمیوں سے قومی سطح پر پہچان بنانے والے اننت کمار کو پارٹی نے خود بلاکر انہیں ٹکٹ دیا تھا۔اور انہوں نے پارٹی کے لئے جیت کی خوشی دلائی تھی۔ کے جی نائک نے مزید کہا کہ اننت کمار ہیگڈے نے اپنے ذاتی وقارکی وجہ سے ہی انتخابی جیت حاصل کی ہے جبکہ آنندنے اپنے والد وسنت اسنوٹیکر کے نام پر جیت حاصل کی تھی۔کے جی نائک نے آنند اسنوٹیکر کو چیلنج کیا کہ وہ خوداپنے وقار اور نام کے بل بوتے پرجیت کر دکھائیں۔
اسنوٹیکر نے یہ جو کہا تھا کہ سرسی حلقے کے ایم ایل اے وشویشور کاگیری کو اننت کمار ہیگڈے نے بی جے پی دفتر میں ہی چپل سے مارا تھا، اس پر کے جی نائک نے کہا کہ اس ضمن میں اسنوٹیکر کے پاس کوئی ثبوت ہوتو وہ پیش کریں۔ بی جے پی ضلعی صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ الیکشن میں اسنوٹیکر نے بی جے پی سے ٹکٹ مانگا تھا، لیکن انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے اننت کمار کا ہاتھ ہے۔اس کے ساتھ ہی اس حلقے سے بی جے پی امیدوار روپالی نائک کی جیت سے ان کے پیٹ میں درد ہونے لگا ہے۔اس لئے خواہ مخواہ کے الزامات لگانے شروع کیے ہیں۔انہوں نے دراصل اننت کمار ہیگڈے کے خلاف بدزبانی کرتے ہوئے ضلع کے عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے لئے نوٹنکی کی ہے۔ اب جنتا دل کی طرف سے لوک سبھاالیکشن لڑنے اور دیشپانڈے کا دل جیتنے کے لئے انہوں نے اس طرح کی حرکت کی ہے۔
اسنوٹیکر کی قیمت اننت کمار کی ایک انگلی کے برابر نہیں ہے:پریس کانفرنس میں موجود سابق ایم ایل اے سنیل ہیگڈے نے کہا کہ آنند اسنوٹیکر نے آئندہ لوک سبھا الیکشن میں اپنا کاروبار چلانے کے لئے یہ ناٹک رچایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی وزیر کی مذمت کرنے والا اسنوٹیکر ایک انتہائی ذلیل آدمی ہے۔آنند اسنوٹیکر کی قیمت اننت کمار ہیگڈے کے پاؤں کی ایک انگلی کے برابر بھی نہیں ہے۔ان کے اندر کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ سنیل ہیگڈے نے پوچھا کہ گوا کے کیاسینو(جوا گھر) میں اسنوٹیکر نے کیوں مار کھائی تھی؟وہ ایک وہ ایک غیر مخلص اور بے کار قسم کے سیاست دان ہیں۔کاگیری جب وزیر تھے تب اسنوٹیکر بھی وزیر تھے۔ اس وقت اسنوٹیکر نے کاگیری کے خلاف غیردستوری الفاظ کا استعمال کیاتھا۔سنیل نے سوال کیا کہ جب کاگیری نے ضلع میں ترقیاتی کام انجام دینے کی کوشش کی تھی تو اسنوٹیکر نے کتنا تعاون کیا تھا؟
ضلعی صدر نے خاموشی اختیارکی:جب بی جے پی ضلع صدر کے جی نائک سے سوال کیا گیا کہ اننت کمار ہیگڈے جب جی چاہے کسی کے بھی خلاف کسی بھی طرح کی زبان استعمال کرتے ہوئے ہتک کیا کرتے ہیں۔ یعنی وہ جس کی چاہے مذمت کریں مگران کے خلاف کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہیں ہے کیا؟ تو اس سوال پر ضلعی صدر نے خاموشی اختیار کی۔ پھر وہاں پر موجود سنیل ہیگڈے نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اننت کمار نے دیگر پارٹیوں اور شخصیات کے خلاف کچھ بولا ہے تو مذکورہ پارٹی والوں نے اس پر اعتراض جتایا ہے۔ ہماری پارٹی کی شخصیت کے خلاف بولا گیا ہے تو ہم اعتراض جتارہے ہیں۔
اس موقع پر سابق ضلع صدر ایم جی نائک، ونود پربھو، گنپتی الویکر، راجیش نائک، ناگراج نائک، وینکٹیش نائک، منوج بھٹ وغیرہ موجود تھے۔
بی جے پی ڈانڈیلی یونٹ کی طرف سے مذمت: بی جے پی شہری یونٹ کے صدر بسواراج کل شیٹی اور دیگر عہدیداران نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے سابق وزیر آنند اسنوٹیکر کی طرف سے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے خلاف بیان بازی کی سخت مذمت کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ موقع پرست سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہوکر وزیر بننے کے بعد انتخاب ہارنے کے ساتھ ہی سیاست اور عوامی زندگی سے دور ہوجانے والے آنند اسنوٹیکرنے انتخابات قریب آنے پردوبارہ بی جے پی کے دروازے پر دستک دی تھی۔ لیکن انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا گیا تو اس کے لئے ہمارے ایم پی کی طرف سے رکاوٹ پیدا کرنے کا شبہ کرتے ہوئے وہ حواس باختہ ہوگئے ہیں اور اس طرح کارویہ دکھارہے ہیں۔سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کے اندر آنند اسنوٹیکر کی کوئی شخصی اہمیت ہے ہی نہیں ۔ ان کے لئے سیاست میں پارٹی اور تنظیم سے زیادہ اپنی شخصیت، خاندانی سیاست اور روپے پیسے کی سیاست سے دلچسپی ہے۔ اسی وجہ سے آج ان کی یہ حالت ہوگئی ہے۔